Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

فنا بلند شہری

فنا بلند شہری استاد قمر جلالوی کے شاگرد تھے

فنا بلند شہری استاد قمر جلالوی کے شاگرد تھے

فنا بلند شہری کے اشعار

اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا

اے فناؔ اس جہاں سے کنارا کرو

آغاز تو اچھا تھا فناؔ دن بھی بھلے تھے

پھر راس مجھے عشق کا انجام نہ آیا

اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدۂ دل میں

قیامت چھپ کے بیٹھی ہے نقاب روئے قاتل میں

اے فناؔ میری میت پہ کہتے ہیں وہ

آپ نے اپنا وعدہ وفا کر دیا

کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد

نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا

تمام ہوش کی دنیا نثار ہے اس پر

تری گلی میں جسے نیند آ گئی ہوگی

بجلی ترے جلووں کی گر جائے کبھی مجھ پر

اے جان مری ہستی اس آگ میں جل جائے

نہ دیر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی

تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہوگی

اے فناؔ ملتا ہے عاشق کو بقا کا پیغام

زندگی جب رہ الفت میں فنا ہوتی ہے

Recitation

Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

بولیے