فنا بلند شہری کے اشعار
اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا
اے فناؔ اس جہاں سے کنارا کرو
آغاز تو اچھا تھا فناؔ دن بھی بھلے تھے
پھر راس مجھے عشق کا انجام نہ آیا
اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدۂ دل میں
قیامت چھپ کے بیٹھی ہے نقاب روئے قاتل میں
اے فناؔ میری میت پہ کہتے ہیں وہ
آپ نے اپنا وعدہ وفا کر دیا
کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد
نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا
تمام ہوش کی دنیا نثار ہے اس پر
تری گلی میں جسے نیند آ گئی ہوگی
-
موضوع : تصوف
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بجلی ترے جلووں کی گر جائے کبھی مجھ پر
اے جان مری ہستی اس آگ میں جل جائے
-
موضوع : تصوف
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ دیر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہوگی
-
موضوع : تصوف
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اے فناؔ ملتا ہے عاشق کو بقا کا پیغام
زندگی جب رہ الفت میں فنا ہوتی ہے
-
موضوع : تصوف
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ