Hakim Mohammad Ajmal Khan Shaida's Photo'

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

1868 - 1927 | دلی, ہندوستان

تحریک آزادی کے اہم رہنما ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے بانیوں میں شامل

تحریک آزادی کے اہم رہنما ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے بانیوں میں شامل

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی

دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ

کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے

چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بہ جا کیا

دل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیا

رخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج

بوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے

مے نہ ہو بو ہی سہی کچھ تو ہو رندوں کے لئے

اسی حیلہ سے بجھے گی ہوس جام شراب

بھلا تو اور گھر آئے مرے کیوں کر یقیں کر لوں

تخیل کیوں نہ ہو میرا تری آواز پا کیوں ہو

تعصب بر طرف مسجد ہو یا ہو کوئے بت خانہ

رہ دل دار پر جاتا قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

وہ سر ہی کیا کہ جس میں تمہارا نہ ہو خیال

وہ دل ہی کیا کہ جس میں تمہارا گزر نہ ہو