نشہ تھا زندگی کا شرابوں سے تیز تر

ہم گر پڑے تو موت اٹھا لے گئی ہمیں

زخم جو تو نے دیے تجھ کو دکھا تو دوں مگر

پاس تیرے بھی نصیحت کے سوا ہے اور کیا

جانے کس شہر میں آباد ہے تو

ہم ہیں برباد یہاں تیرے بعد

اکیلے پار اتر کے بہت ہے رنج مجھے

میں اس کا بوجھ اٹھا کر بھی تیر سکتا تھا

غم حیات نے بخشے ہیں سارے سناٹے

کبھی ہمارے بھی پہلو میں دل دھڑکتا تھا

ترک تعلقات کی بس انتہا نہ پوچھ

اب کے تو میں نے ترک کیا اپنے آپ کو