Jaan Nisar Akhtar's Photo'

جاں نثاراختر

1914 - 1976 | ممبئی, ہندوستان

اہم ترقی پسند شاعر، اور فلم نغمہ نگار ، فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے والد

اہم ترقی پسند شاعر، اور فلم نغمہ نگار ، فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے والد

غزل 42

نظم 15

اشعار 29

اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں

دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے

تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

قطعہ 30

کتاب 39

گھر آنگن

 

1976

گھر آنگن

 

1971

گھر آنگن

 

1971

گھر آنگن

 

1971

ہماری قدر کرو اے سخن کے متواالو

جاں نثار اختر پر کچھ مضامین

2011

ہندوستاں ہمارا

 

2006

ہندوستاں ہمارا

جلد۔002

1974

ہندوستاں ہمارا

جلد ـ 001

1973

ہندوستاں ہمارا

جلد-002

1974

جاں نثار اخٹر : شخص اور شاعر

 

1987

تصویری شاعری 22

زندگی تجھ کو بھلایا ہے بہت دن ہم نے وقت خوابوں میں گنوایا ہے بہت دن ہم نے اب یہ نیکی بھی ہمیں جرم نظر آتی ہے سب کے عیبوں کو چھپایا ہے بہت دن ہم نے تم بھی اس دل کو دکھا لو تو کوئی بات نہیں اپنا دل آپ دکھایا ہے بہت دن ہم نے مدتوں ترک_تمنا پہ لہو رویا ہے عشق کا قرض چکایا ہے بہت دن ہم نے کیا پتا ہو بھی سکے اس کی تلافی کہ نہیں شاعری تجھ کو گنوایا ہے بہت دن ہم نے

کچل کے پھینک دو آنکھوں میں خواب جتنے ہیں اسی سبب سے ہیں ہم پر عذاب جتنے ہیں

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو صندل سے مہکتی ہوئی پر_کیف ہوا کا جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر چپ_چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

ویڈیو 24

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

پریت ڈلن

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

نامعلوم

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

نامعلوم

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

عابدہ پروین

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

بھارتی وشواناتھن

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

استاد سلامت علی خان

اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے

نعمان شوق

اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے

نامعلوم

اے درد_عشق تجھ سے مکرنے لگا ہوں میں

نامعلوم

تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے

نامعلوم

زلفیں سینہ ناف کمر

نامعلوم

صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں

بیگم اختر

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے

نعمان شوق

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح

غلام عباس

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر

نامعلوم

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

بھوپندر سنگھ

آڈیو 30

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

آج مدت میں وہ یاد آئے ہیں

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

  • ساحر لدھیانوی ساحر لدھیانوی ہم عصر
  • مضطر خیرآبادی مضطر خیرآبادی والد
  • یزدانی جالندھری یزدانی جالندھری ہم عصر
  • جاوید اختر جاوید اختر بیٹا
  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز ہم عصر

"ممبئی" کے مزید شعرا

  • اختر الایمان اختر الایمان
  • علی سردار جعفری علی سردار جعفری
  • شکیل بدایونی شکیل بدایونی
  • میراجی میراجی
  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری
  • ساحر لدھیانوی ساحر لدھیانوی
  • قیصر الجعفری قیصر الجعفری
  • ندا فاضلی ندا فاضلی
  • اعجاز صدیقی اعجاز صدیقی