Javaid Anwar's Photo'

جاوید انور

کناڈا

جاوید انور کے اشعار

سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے

محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا

نکل گلاب کی مٹھی سے اور خوشبو بن

میں بھاگتا ہوں ترے پیچھے اور تو جگنو بن

جو دن چڑھا تو ہمیں نیند کی ضرورت تھی

سحر کی آس میں ہم لوگ رات بھر جاگے

شام پیاری شام اس پر بھی کوئی در کھول دے

شاخ پر بیٹھی ہوئی ہے ایک بے گھر فاختہ

تجھے میں غور سے دیکھوں میں تجھ سے پیار کروں

اے میرے بت تو مرے بت کدوں سے باہر آ

کوئی کہانی کوئی واقعہ سنا تو سہی

اگر ہنسا نہیں سکتا مجھے رلا تو سہی

عجیب سانحہ گزرا ہے ان گھروں پہ کوئی

کہ چونکتا ہی نہیں اب تو دستکوں پہ کوئی

بے تکی روشنی میں پرائے اندھیرے لیے

ایک منظر ہے تیرے لیے ایک میرے لیے

ہر ایک حد سے پرے اپنا بوریا لے جا

بدی کا نام نہ لے اور نیکیوں سے نکل