Khwaja Meer Dard's Photo'

خواجہ میر درد

1721 - 1785 | دلی, ہندوستان

صوفی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر ، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور

صوفی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر ، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

اذیت مصیبت ملامت بلائیں

ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

do not be deceived by it damp disposition

if I wring my cloak, angels will do ablution

do not be deceived by it damp disposition

if I wring my cloak, angels will do ablution

نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز

گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے

مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا

کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا

محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے

laughing, crying and at times spouting inanity

passion does render a wise person to insanity

laughing, crying and at times spouting inanity

passion does render a wise person to insanity

جان سے ہو گئے بدن خالی

جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی

ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

دشمنی نے سنا نہ ہووے گا

جو ہمیں دوستی نے دکھلایا

تمنا تری ہے اگر ہے تمنا

تری آرزو ہے اگر آرزو ہے

آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں

تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں

ahead of time, before I speak, you do seek to deny

those matters that I haven't even started to imply

ahead of time, before I speak, you do seek to deny

those matters that I haven't even started to imply

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے

تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے

دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا

آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا

کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں

کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب

مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے

کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں

ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر

لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے

اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوں

میں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا

دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے

آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے

ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن

اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو

ایک ایمان ہے بساط اپنی

نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے

دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا

اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

آنکھیں بھی ہائے نزع میں اپنی بدل گئیں

سچ ہے کہ بے کسی میں کوئی آشنا نہیں

کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری

جی میں یہ کس کا تصور آ گیا

کہتے نہ تھے ہم دردؔ میاں چھوڑو یہ باتیں

پائی نہ سزا اور وفا کیجئے اس سے

یک بہ یک نام لے اٹھا میرا

جی میں کیا اس کے آ گیا ہوگا

ظالم جفا جو چاہے سو کر مجھ پہ تو ولے

پچھتاوے پھر تو آپ ہی ایسا نہ کر کہیں

O cruel one any torture, on me implement

just refrain from actions which you may repent

O cruel one any torture, on me implement

just refrain from actions which you may repent

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے

آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب

کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

شمع کے مانند ہم اس بزم میں

چشم تر آئے تھے دامن تر چلے

حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے

جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا

روندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھے

اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے

نالہ فریاد آہ اور زاری

آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں

گر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیں

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

جس لیے آئے تھے ہم کر چلے

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

پر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا

رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور

شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا

باوجودے کہ پر و بال نہ تھے آدم کے

وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا

کمر خمیدہ نہیں بے سبب ضعیفی میں

زمین ڈھونڈتے ہیں وہ مزار کے قابل

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

بند احکام عقل میں رہنا

یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے

نہ رہ جاوے کہیں تو زاہدا محروم رحمت سے

گنہ گاروں میں سمجھا کریو اپنی بے گناہی کو

مت جا تر و تازگی پہ اس کی

عالم تو خیال کا چمن ہے

ٹک خبر لے کہ ہر گھڑی ہم کو

اب جدائی بہت ستاتی ہے

غیر کے دل میں نہ جا کیجئے گا

میری آنکھوں میں رہا کیجئے گا