noImage

ماہ لکھنوی

تم خفا ہو کے ہم کو چھوڑ چلے

اب اجل سے ہے سامنا اپنا

ایک دم اور عنایت ہو جائے

دل ٹھہر لے تو چلے جائیے گا

ادا و ناز کا اس کے کبھی جواب نہ تھا

وہ جب بھی فتنہ تھا جب عالم شباب نہ تھا