Mahesh Chandra Naqsh's Photo'

مہیش چندر نقش

1922 - 1980 | دلی, ہندوستان

ڈی ٹی سی ٹریفک انسپکٹر، غزلوں اور قطعات کے لیے مشہور

ڈی ٹی سی ٹریفک انسپکٹر، غزلوں اور قطعات کے لیے مشہور

1.1K
Favorite

باعتبار

اس ڈوبتے سورج سے تو امید ہی کیا تھی

ہنس ہنس کے ستاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

خود شناسی تھی جستجو تیری

تجھ کو ڈھونڈا تو آپ کو پایا

حال کہہ دیتے ہیں نازک سے اشارے اکثر

کتنی خاموش نگاہوں کی زباں ہوتی ہے

تسکین دے سکیں گے نہ جام و سبو مجھے

بے چین کر رہی ہے تری آرزو مجھے

ان کے گیسو سنورتے جاتے ہیں

حادثے ہیں گزرتے جاتے ہیں

شام ہجراں بھی اک قیامت تھی

آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

محبت کا ان کو یقیں آ چلا ہے

حقیقت بنے جا رہے ہیں فسانے

بہت دشوار تھی راہ محبت

ہمارا ساتھ دیتے ہم سفر کیا

تصویر زندگی میں نیا رنگ بھر گئے

وہ حادثے جو دل پہ ہمارے گزر گئے

ان مست نگاہوں نے خود اپنا بھرم کھولا

انکار کے پردے میں اقرار نظر آئے

کون سمجھے ہم پہ کیا گزری ہے نقشؔ

دل لرز اٹھتا ہے ذکر شام سے

دنیا سے ہٹ کے اک نئی دنیا بنا سکیں

کچھ اہل آرزو اسی حسرت میں مر گئے

یوں گزرتے ہیں ہجر کے لمحے

جیسے وہ بات کرتے جاتے ہیں

اغیار کا شکوہ نہیں اس عہد ہوس میں

اک عمر کے یاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

اے نقشؔ کر رہا تھا جنہیں غرق ناخدا

طوفاں کے زور سے وہ سفینے ابھر گئے

یوں روٹھ کے جانے پہ میں خاموش ہوں لیکن

یہ بات مرے دل کو گوارا تو نہیں ہے

کس طرح کریں تجھ سے گلہ تیرے ستم کا

مدہوش اشاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے

مری ناکامیوں پر ہنسنے والے

ترے پہلو میں شاید دل نہیں ہے

پھر کسی کی بزم کا آیا خیال

پھر دھواں اٹھا دل ناکام سے

میری خاموشیوں کے عالم میں

گونج اٹھتی ہے آپ کی آواز

ڈوبنے والے موج طوفاں سے

جانے کیا بات کرتے جاتے ہیں

پھول روتے ہیں خار ہنستے ہیں

دیکھ! گلشن کا یہ نظارا بھی

یہ زور برق و باد یہ طوفان الاماں

محروم ہو نہ جائیں کہیں آشیاں سے ہم

تری بزم طرب میں آ گیا ہوں

مگر دل کو سکوں حاصل نہیں ہے