Maikash Akbarabadi's Photo'

میکش اکبرآبادی

1902 - 1991 | آگرہ, ہندوستان

232
Favorite

باعتبار

مرے فسوں نے دکھائی ہے تیرے رخ کی سحر

مرے جنوں نے بنائی ہے تیرے زلف کی شام

تری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوست

مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں

آپ کی میری کہانی ایک ہے

کہئے اب میں کیا سناؤں کیا سنوں

پہنچ ہی جائے گا یہ ہاتھ تیری زلفوں تک

یوں ہی جنوں کا اگر سلسلہ دراز رہا

نہیں ہے دل کا سکوں قسمت تمنا میں

تمہیں بھی دل کی تمنا بنا کے دیکھ لیا

نزع تک دل اس کو دہرایا کیا

اک تبسم میں وہ کیا کچھ کہہ گئے

تھی جنوں آمیز اپنی گفتگو

بات مطلب کی بھی لیکن کہہ گئے

یہ مسلک اپنا اپنا ہے یہ فطرت اپنی اپنی ہے

جلاؤ آشیاں تم ہم کریں گے آشیاں پیدا

سب کچھ ہے اور کچھ نہیں اے داد خواہ عشق

وہ دیکھ کر نہ دیکھنا نیچی نگاہ سے

زباں پہ نام محبت بھی جرم تھا یعنی

ہم ان سے جرم محبت بھی بخشوا نہ سکے

بیٹھے رہے وہ خون تمنا کئے ہوئے

دیکھا کئے انہیں نگہ التجا سے ہم

کچھ اس طرح تری الفت میں کاٹ دی میں نے

گناہ گار ہوا اور نہ پاکباز رہا

چراغ کشتہ لے کر ہم تری محفل میں کیا آتے

جو دن تھے زندگی کے وہ تو رستے میں گزار آئے

ہم نے لالے کی طرح اس دور میں

آنکھ کھولی تھی کہ دیکھا دل کا خوں