Mazhar Mirza Jaan-e-Janaan's Photo'

مظہر مرزا جان جاناں

1699 - 1781 | دلی, ہندوستان

خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

رسوا اگر نہ کرنا تھا عالم میں یوں مجھے

ایسی نگاہ ناز سے دیکھا تھا کیوں مجھے

جو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے

غلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا

یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے

اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا

اتنی فرصت دے کہ رخصت ہو لیں اے صیاد ہم

مدتوں اس باغ کے سایہ میں تھے آزاد ہم

اس گل کو بھیجنا ہے مجھے خط صبا کے ہاتھ

اس واسطے لگا ہوں چمن کی ہوا کے ہاتھ

ہم گرفتاروں کو اب کیا کام ہے گلشن سے لیک

جی نکل جاتا ہے جب سنتے ہیں آتی ہے بہار