گردش ماہ و سال سے آگے نکل گیا ہوں میں

جیسے بدل گئے ہو تم جیسے بدل گیا ہوں میں

یہ بھی تو جبر وقت ہے تو مجھے یاد بھی نہیں

جیسے سنبھل گئے ہو تم ویسے سنبھل گیا ہوں میں

دن تو خیر گزر جاتا ہے

راتیں پاگل کر دیتی ہیں