Owais Ahmad Dauran's Photo'

اویس احمد دوراں

1938 | بہار, انڈیا

معروف ترقی پسند شاعر،ادیب، اک بیوفا کے نام جیسی نظموں اور اپنی خودنوشت میری کہانی کے لیے مشہور

معروف ترقی پسند شاعر،ادیب، اک بیوفا کے نام جیسی نظموں اور اپنی خودنوشت میری کہانی کے لیے مشہور

اویس احمد دوراں کے شعر

414
Favorite

باعتبار

شاید کسی کی یاد کا موسم پھر آ گیا

پہلو میں دل کی طرح دھڑکنے لگی ہے شام

کچھ درد کے مارے ہیں کچھ ناز کے ہیں پالے

کچھ لوگ ہیں ہم جیسے کچھ لوگ ہیں تم جیسے

بہتی نہیں ہے مرد کی آنکھوں سے جوئے اشک

لیکن ہمیں بتاؤ کہ ہم کس لئے ہنسیں

یہ صحن گلستاں نہیں مقتل ہے رفیقو!

ہر شاخ ہے تلوار یہاں، جاگتے رہنا

ان مکانوں میں بھی انسان ہی رہتے ہوں گے

رونقیں جن میں نہیں آپ کی محفل کی سی

سب مستیوں میں پھینکو نہ پتھر ادھر ادھر

دیوانو! اس دیار میں شیشے کے گھر بھی ہیں

پیوند کی طرح نظر آتا ہے بد نما

پختہ مکان کچے گھروں کے ہجوم میں

ایسا نہ ہو یہ رات کوئی حشر اٹھا دے

اٹھتا ہے ستاروں سے دھواں جاگتے رہنا

ہم شاعر حیات ہیں ہم شاعر حیات!

دوراںؔ وہ سرخ رنگ کا پرچم تو دو ہمیں

وہ لہو پی کر بڑے انداز سے کہتا ہے یہ

غم کا ہر طوفان اس کے گھر کے باہر آئے گا

بے داروں کی دنیا کبھی لٹتی نہیں دوراںؔ

اک شمع لئے تم بھی یہاں جاگتے رہنا

یہ زیست کہ ہے پھول سی مٹ جائے بلا سے

گلچیں سے مگر بر سر پیکار ہی رہئے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے