Qamar Jalalvi's Photo'

قمر جلالوی

1887 - 1968 | کراچی, پاکستان

پاکستان کے استاد شاعر، کئی مقبول عام شعروں کے خالق

پاکستان کے استاد شاعر، کئی مقبول عام شعروں کے خالق

قمر جلالوی کے شعر

8.7K
Favorite

باعتبار

ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامد

قمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کی

شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ

اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم

سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے

کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو

ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم

آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے

پوچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو

سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام

گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لئے

وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔ

کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے

آئیں ہیں وہ مزار پہ گھونگھٹ اتار کے

مجھ سے نصیب اچھے ہے میرے مزار کے

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو

دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام

ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو

رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمرؔ

اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون

روئیں گے دیکھ کر سب بستر کی ہر شکن کو

وہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کر

سرمے کا تل بنا کے رخ لا جواب میں

نقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میں

اس لئے آرزو چھپائی ہے

منہ سے نکلی ہوئی پرائی ہے

اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا

جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو

جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

مجھے میرے مٹنے کا غم ہے تو یہ ہے

تمہیں بے وفا کہہ رہا ہے زمانہ

قمرؔ کسی سے بھی دل کا علاج ہو نہ سکا

ہم اپنا داغ دکھاتے رہے زمانے کو

قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی

چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو

میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارے

قمرؔ بزم انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

مدتیں ہوئیں اب تو جل کے آشیاں اپنا

آج تک یہ عالم ہے روشنی سے ڈرتا ہوں

ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریں

یہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستاں پر

تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول

صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

شب کو مرا جنازہ جائے گا یوں نکل کر

رہ جائیں گے سحر کو دشمن بھی ہاتھ مل کر

جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سے

چاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہے

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ تم اٹھ کر آ نہ سکے

دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے

کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نے

روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میں

شاہد ہیں آسماں کے ستارے قمر ہوں میں

یہی ہے گر خوشی تو رات بھر گنتے رہو تارے

قمرؔ اس چاندنی میں ان کا اب آنا تو کیا ہوگا

اگر آ جائے پہلو میں قمرؔ وہ ماہ کامل بھی

دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہوگی

بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمر

گھٹا گھٹا کے قمرؔ کو ہلال کر دو گے

جگر کا داغ چھپاؤ قمرؔ خدا کے لئے

ستارے ٹوٹتے ہیں ان کے دیدۂ نم سے

نشیمن خاک ہونے سے وہ صدمہ دل کو پہنچا ہے

کہ اب ہم سے کوئی بھی روشنی دیکھی نہیں جاتی

ایسے میں وہ ہوں باغ ہو ساقی ہو اے قمرؔ

لگ جائیں چار چاند شب ماہتاب میں

قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سے

ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں

نہ ہو رہائی قفس سے اگر نہیں ہوتی

نگاہ شوق تو بے بال و پر نہیں ہوتی

ہر وقت محویت ہے یہی سوچتا ہوں میں

کیوں برق نے جلایا مرا آشیاں نہ پوچھ

قمرؔ اپنے داغ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑی

کہ سنا کئے ستارے مرا رات بھر فسانہ

خون ہوتا ہے سحر تک مرے ارمانوں کا

شام وعدہ جو وہ پابند حنا ہوتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے