noImage

رابعہ سلطانہ ناشاد

1921

تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گے

خدایا عمر بھر رویا کریں گے

وقت اک ضرب لگائے تو غزل ہوتی ہے

درد اگر دل میں سمائے تو غزل ہوتی ہے

مرے لیے شب مہتاب اک قیامت ہے

تم آؤ چاند ستاروں میں دل نہیں لگتا

دیکھی تھیں کبھی میں نے بھی برکھا کی بہاریں

اب ٹوٹے ہوئے دل کو خدارا نہ دکھاؤ

ناشادؔ نہ کوئی نغمہ ہے یہ درد بھرا اک نالہ ہے

کیا سمجھے کوئی درد جگر جب چوٹ نہ دل پر کھائی ہو