noImage

رانا گنوری

1938 | دلی, ہندوستان

غزل 7

اشعار 16

خود تراشنا پتھر اور خدا بنا لینا

آدمی کو آتا ہے کیا سے کیا بنا لینا

  • شیئر کیجیے

ہمارا دل تو غم میں بھی خوشی محسوس کرتا ہے

وہی مشکل میں رہتے ہیں جو غم کو غم سمجھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

تمہیں اے کاش کوئی راز یہ سمجھا گیا ہوتا

اگر سنتے تو کہنے کا سلیقہ آ گیا ہوتا

  • شیئر کیجیے

خوشی ہم سے کنارا کر رہی ہے

ہمیں غم کو بھی اپنانا پڑے گا

  • شیئر کیجیے

اے خدا میں سن رہا ہوں آہٹیں اس وقت کی

جب تری دنیا کا ہر بندا خدا ہو جائے گا

  • شیئر کیجیے

کتاب 3

میگھ دوت

 

1970

رعنائی خیال

 

1981

تذکرۂ شعرائے ہریانہ

 

1983

 

"دلی" کے مزید شعرا

  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • داغؔ دہلوی داغؔ دہلوی
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • حسرتؔ موہانی حسرتؔ موہانی
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • راجیندر منچندا بانی راجیندر منچندا بانی
  • انیس الرحمان انیس الرحمان
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ