Saleem Kausar's Photo'

سلیم کوثر

1945 | کراچی, پاکستان

اہم پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ میں خیال ہوں کسی اور کا ‘ کے لئے مشہور

اہم پاکستانی شاعر ، اپنی غزل ’ میں خیال ہوں کسی اور کا ‘ کے لئے مشہور

6.2K
Favorite

باعتبار

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے

ہم نے تو خود سے انتقام لیا

تم نے کیا سوچ کر محبت کی

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

I am someone else's thought, someone else brings me to mind

my image in the mirror wrought, someone else is there behind

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی

ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

مجھے سنبھالنے میں اتنی احتیاط نہ کر

بکھر نہ جاؤں کہیں میں تری حفاظت میں

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

یہ بھی توہین ہے عدالت کی

آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر

ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے

تمام عمر ستارے تلاش کرتا پھرا

پلٹ کے دیکھا تو مہتاب میرے سامنے تھا

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں

تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے

----

----

کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں

کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ہوا

پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے

جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ہوئے

اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہ

صورت حال کے لیے واقف حال چاہئے

وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیں

اب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیں

تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے

پھر پس دیوار زنداں رات بھر روتا ہے کون

میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں

میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

I am in someone's outstretched hand, and in someone's prayer prayer I be

I am someone's destiny but someone else does ask for me

کبھی عشق کرو اور پھر دیکھو اس آگ میں جلتے رہنے سے

کبھی دل پر آنچ نہیں آتی کبھی رنگ خراب نہیں ہوتا

وقت رک رک کے جنہیں دیکھتا رہتا ہے سلیمؔ

یہ کبھی وقت کی رفتار ہوا کرتے تھے

قدموں میں سائے کی طرح روندے گئے ہیں ہم

ہم سے زیادہ تیرا طلب گار کون ہے

محبت اپنے لیے جن کو منتخب کر لے

وہ لوگ مر کے بھی مرتے نہیں محبت میں

سلیمؔ اب تک کسی کو بد دعا دی تو نہیں لیکن

ہمیشہ خوش رہے جس نے ہمارا دل دکھایا ہے

اب جو لہر ہے پل بھر بعد نہیں ہوگی یعنی

اک دریا میں دوسری بار اترا نہیں جا سکتا

سانس لینے سے بھی بھرتا نہیں سینے کا خلا

جانے کیا شے ہے جو بے دخل ہوئی ہے مجھ میں

خاموش سہی مرکزی کردار تو ہم تھے

پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے

دنیا اچھی بھی نہیں لگتی ہم ایسوں کو سلیمؔ

اور دنیا سے کنارا بھی نہیں ہو سکتا

رات کو رات ہی اس بار کہا ہے ہم نے

ہم نے اس بار بھی توہین عدالت نہیں کی

دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہو

تم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہو

دیکھتے کچھ ہیں دکھاتے ہمیں کچھ ہیں کہ یہاں

کوئی رشتہ ہی نہیں خواب کا تعبیر کے ساتھ

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

غزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا

یاد کا زخم بھی ہم تجھ کو نہیں دے سکتے

دیکھ کس عالم غربت میں ملے ہیں تجھ سے

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

جو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں

یہ لوگ عشق میں سچے نہیں ہیں ورنہ ہجر

نہ ابتدا نہ کہیں انتہا میں آتا ہے

اہل خرد کو آج بھی اپنے یقین کے لیے

جس کی مثال ہی نہیں اس کی مثال چاہئے

ایک طرف ترے حسن کی حیرت ایک طرف دنیا

اور دنیا میں دیر تلک ٹھہرا نہیں جا سکتا

زوروں پہ سلیمؔ اب کے ہے نفرت کا بہاؤ

جو بچ کے نکل آئے گا تیراک وہی ہے

میں نے جو لکھ دیا وہ خود ہے گواہی اپنی

جو نہیں لکھا ابھی اس کی بشارت دوں گا

مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر

تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے

tho my sight unconversant with your features may not be

if or not you are the same come close and let me see,

جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی

تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

if for my midnight prayers, Saliim, a dawn there shall never be

then it means that in this world there is a God other than thee

بہت دنوں میں کہیں ہجر ماہ و سال کے بعد

رکا ہوا ہے زمانہ ترے وصال کے بعد

میں جانتا ہوں مکینوں کی خامشی کا سبب

مکاں سے پہلے در و بام سے ملا ہوں میں

انتظار اور دستکوں کے درمیاں کٹتی ہے عمر

اتنی آسانی سے تو باب ہنر کھلتا نہیں

سائے گلی میں جاگتے رہتے ہیں رات بھر

تنہائیوں کی اوٹ سے جھانکا نہ کر مجھے

تو نے دیکھا نہیں اک شخص کے جانے سے سلیمؔ

اس بھرے شہر کی جو شکل ہوئی ہے مجھ میں

جدائی بھی نہ ہوتی زندگی بھی سہل ہو جاتی

جو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے

بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے

کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا

کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سے

ہم بھرے شہر کی خلوت میں ملے ہیں تجھ سے

یہ آگ لگنے سے پہلے کی بازگشت ہے جو

بجھانے والوں کو اب تک دھواں بلاتا ہے

کیا عجب کار تحیر ہے سپرد نار عشق

گھر میں جو تھا بچ گیا اور جو نہیں تھا جل گیا