Saqib Lakhnavi's Photo'

ثاقب لکھنوی

1869 - 1946 | لکھنؤ, ہندوستان

ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر ، اپنے شعر ’بڑے غورسے سن رہا تھا زمانہ ۔۔۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر ، اپنے شعر ’بڑے غورسے سن رہا تھا زمانہ ۔۔۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

4.7K
Favorite

باعتبار

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں

اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن

زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے

سننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال

دیکھنے والے ترس کھا کر دعا دینے لگے

مشکل عشق میں لازم ہے تحمل ثاقبؔ

بات بگڑی ہوئی بنتی نہیں گھبرانے سے

جس شخص کے جیتے جی پوچھا نہ گیا ثاقبؔ

اس شخص کے مرنے پر اٹھے ہیں قلم کتنے

اپنے دل بے تاب سے میں خود ہوں پریشاں

کیا دوں تمہیں الزام میں کچھ سوچ رہا ہوں

سونے والوں کو کیا خبر اے ہجر

کیا ہوا ایک شب میں کیا نہ ہوا

کس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو

زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے

اے چمن والو چمن میں یوں گزارا چاہئے

باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی

بوئے گل پھولوں میں رہتی تھی مگر رہ نہ سکی

میں تو کانٹوں میں رہا اور پریشاں نہ ہوا

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے

سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے

اس کے سننے کے لئے جمع ہوا ہے محشر

رہ گیا تھا جو فسانہ مری رسوائی کا

دیدۂ دوست تری چشم نمائی کی قسم

میں تو سمجھا تھا کہ در کھل گیا مے خانے کا

آپ اٹھ رہے ہیں کیوں مرے آزار دیکھ کر

دل ڈوبتے ہیں حالت بیمار دیکھ کر

بلا سے ہو پامال سارا زمانہ

نہ آئے تمہیں پاؤں رکھنا سنبھل کر

کہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی مگر

خاموش ہو گیا ہے چمن بولتا ہوا

چل اے ہم دم ذرا ساز طرب کی چھیڑ بھی سن لیں

اگر دل بیٹھ جائے گا تو اٹھ آئیں گے محفل سے