شان الحق حقی کے اشعار
بڑی تلاش سے ملتی ہے زندگی اے دوست
قضا کی طرح پتا پوچھتی نہیں آتی
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
لوگ تم سے بھی ستم پیشہ کہاں ہوتے ہیں
جو کہیں کا نہ رکھیں اور پھر اپنا نہ کہیں
وائے طلسم نقش فرنگ
بھول گیا اردو بھی میں
لے کر رخ پر اتنے کلنک
لگتا ہوں خوش رو بھی میں