Sudarshan Fakir's Photo'

سدرشن فاکر

1934 - 2008 | جالندھر, ہندوستان

سدرشن کامرا ، کئی فلموں کے لئے گیت لکھے

سدرشن کامرا ، کئی فلموں کے لئے گیت لکھے

7.1K
Favorite

باعتبار

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں

جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں

تیرے جانے میں اور آنے میں

ہم نے صدیوں کا فاصلہ دیکھا

عشق ہے عشق یہ مذاق نہیں

چند لمحوں میں فیصلہ نہ کرو

love is love, no joke at all

Rashly, do not make a call

ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب

آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا

showers of wine, I did think, would come with rainy clime

but alas when it did rain my heart broke one more time

دیکھنے والو تبسم کو کرم مت سمجھو

انہیں تو دیکھنے والوں پہ ہنسی آتی ہے

do not deem her smile to be a sign of grace

she mocks those poor souls who've looked upon her face

میرا قاتل ہی میرا منصف ہے

کیا مرے حق میں فیصلہ دے گا

my killer is himself my judge upon this day

how then will he decide in my favour pray?

تیری آنکھوں میں ہم نے کیا دیکھا

کبھی قاتل کبھی خدا دیکھا

یہ سکھایا ہے دوستی نے ہمیں

دوست بن کر کبھی وفا نہ کرو

friendship has taught this to me

in friendship don’t bear loyalty

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو

مجھ کو مجھ سے ابھی جدا نہ کرو

my sorrows no one should allay

keep not me from my self away

ہم سے پوچھو نہ دوستی کا صلا

دشمنوں کا بھی دل ہلا دے گا

ذکر جب ہوگا محبت میں تباہی کا کہیں

یاد ہم آئیں گے دنیا کو حوالوں کی طرح

میرے رکتے ہی مری سانسیں بھی رک جائیں گی

فاصلے اور بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

عاشقی ہو کہ بندگی فاخرؔ

بے دلی سے تو ابتدا نہ کرو

worship, love whatever be

begin it not half-heartedly

ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکرؔ

ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا

دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہے

عشق کی ایسی روایات نے دل توڑ دیا

no tears were permissible though weeping be the heart

in love's domain such cruel customs tore my heart apart

رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں

جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا

عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا

ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا

ہر طرف زیست کی راہوں میں کڑی دھوپ ہے دوست

بس تری یاد کے سائے ہیں پناہوں کی طرح

اپنی صورت لگی پرائی سی

جب کبھی ہم نے آئینہ دیکھا

دل کے دیوار و در پہ کیا دیکھا

بس ترا نام ہی لکھا دیکھا