Tajvar Najibabadi's Photo'

تاجور نجیب آبادی

1894 - 1951 | لاہور, پاکستان

نظر بھر کے جو دیکھ سکتے ہیں تجھ کو

میں ان کی نظر دیکھنا چاہتا ہوں

خدا مجھ کو تجھ سے ہی محروم کر دے

جو کچھ اور تیرے سوا چاہتا ہوں

غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں

فضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میں

برداشت درد عشق کی دشوار ہو گئی

اب زندگی بھی جان کا آزار ہو گئی

اف وہ نظر کہ سب کے لیے دل نواز ہے

میری طرف اٹھی تو تلوار ہو گئی

آہ اس کی بے کسی تو نہ جس کے ساتھ ہو

ہائے اس کی بندگی جس کا تو خدا نہیں

دل کے پردوں میں چھپایا ہے ترے عشق کا راز

خلوت دل میں بھی پردا نظر آتا ہے مجھے

کہیں رسوا نہ ہوں رنگینیاں درد محبت کی

مرا اتنا خیال اے دیدۂ خوں بار کر لینا

جنس ہنر مذاق خریدار دیکھ کر

خود بے نیاز چشم خریدار ہو گئی