عمیر نجمی کی اشعار

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہے

پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ

اس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا میں

جس سمندر میں یہ سیلاب اکٹھے ہوں گے