Yaqoob Aamir's Photo'

یعقوب عامر

95
Favorite

باعتبار

بعد نفرت پھر محبت کو زباں درکار ہے

پھر عزیز جاں وہی اردو زباں ہونے لگی

سچ کہیو کہ واقف ہو مرے حال سے عامرؔ

دنیا ہے خفا مجھ سے کہ دنیا سے خفا میں

مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا

تری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک

ہر نیا رستہ نکلتا ہے جو منزل کے لیے

ہم سے کہتا ہے پرانی رہ گزر کچھ بھی نہیں

سر کے نیچے اینٹ رکھ کر عمر بھر سویا ہے تو

آخری بستر بھی عامرؔ تیرا فرش خاک تھا

بزم میں یوں تو سبھی تھے پھر بھی عامرؔ دیر تک

تیرے جانے سے رہی اک خامشی چاروں طرف

نہ سمجھے اشک فشانی کو کوئی مایوسی

ہے دل میں آگ اگر آنکھ میں بھی پانی ہے

چین ہی کب لینے دیتا تھا کسی کا غم ہمیں

یہ نہ دیکھا عمر بھر اپنا بھی دامن چاک تھا

دھیرے دھیرے سر میں آ کر بھر گیا برسوں کا شور

رفتہ رفتہ آرزوئے دل دھواں ہونے لگی

میں آج کل کے تصور سے شاد کام تو ہوں

یہ اور بات کہ دو پل کی زندگانی ہے