zafar iqbal zafar's Photo'

ظفر اقبال ظفر

1940 | فتح پور, ہندوستان

399
Favorite

باعتبار

ہم لوگ تو مرتے رہے قسطوں میں ہمیشہ

پھر بھی ہمیں جینے کا ہنر کیوں نہیں آیا

موم کے لوگ کڑی دھوپ میں آ بیٹھے ہیں

آؤ اب ان کے پگھلنے کا تماشا دیکھیں

صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیا

مانگی تھیں دعائیں تو اثر کیوں نہیں آیا

آئینے ہی آئینے تھے ہر طرف

پھر بھی اپنے آپ میں تنہا تھا میں

ریت کا ہم لباس پہنے ہیں

اور ہوا کے سفر پہ نکلے ہیں

وہ ضبط تھا کہ آہ نہ نکلی زبان سے

دل پہ ہمارے کتنے ہی خنجر گزر گئے

کچھ ایسے کم نظر بھی مسافر ہمیں ملے

جو سایہ ڈھونڈتے ہیں شجر کاٹنے کے بعد

کوئی کنکر پھینکنے والا نہیں

کیسے پھر ہو جھیل میں ہلچل کوئی

تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھ

کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے

حادثوں سے کھیلنے کے باوجود

آج بھی ویسا ہوں کل جیسا تھا میں

پھیلی ہوئی ہے چاندنی احساس میں مرے

یہ کون میری ذات کے اندر اتر گیا

نہ کوئی پھول ہی رکھا نہ آرزو نہ چراغ

تمام گھر کو بیابان کر دیا میں نے

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے

پیاس بجھتی ہے میری صحرا سے

میں زد پہ تیروں کے خود آ گیا ہوں آج ظفرؔ

ترے نشانے کو آسان کر دیا میں نے

کوئی بھی شے حسیں لگتی نہیں جب تیرے سوا

یہ بتا شہر میں ہم تیرے سوا کیا دیکھیں

کوئی پرساں نہیں غموں کا ظفرؔ

دیکھنے میں ہزار رشتے ہیں

ہیں جتنے مہرے یہاں سارے پٹنے والے ہیں

کسے میں شہہ کروں اپنا کسے غلام کروں

آپ دریا کی روانی سے نہ الجھیں ہرگز

تہہ میں اس کے کوئی گرداب بھی ہو سکتا ہے

اس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں

کتنے حسین آنکھوں سے پیکر گزر گئے

ملی نہ جب انہیں تعبیر اپنے خوابوں کی

پھر اپنی آنکھوں کو نیلام کر دیا سب نے

اتری ہوئی ہے دھوپ بدن کے حصار میں

قربت کے فاصلوں کا سفر کاٹنے کے بعد

مری چیخیں فصیلوں سے کبھی باہر نہیں جاتیں

شکستہ ہو کے گرنے پر صدا دیتی ہیں دیواریں

بجھ گئی ہے بستیوں کی آگ اک مدت ہوئی

ذہن میں لیکن ابھی تک شعلگی موجود ہے

تو نے نظریں نہ ملانے کی قسم کھائی ہے

آئنہ سامنے رکھ کر ترا چہرہ دیکھیں

ہماری زیست میں ایسے بھی لمحے آتے ہیں اکثر

دراروں کے توسط سے ہوا دیتی ہیں دیواریں