در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ

میر تقی میر

در مدح حضرت علی مرتضےٰ ؓ

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    اک شب کیا تھا یار تری زلف کا خیال

    اب تک ہے دشمنی میں مری میرا بال بال

    میں مر گیا فراق میں پر اب یہ کیا ہے ظلم

    جیتی گڑی ہے ساتھ مرے حسرت وصال

    جنبش ہوئی مژہ کو ادھر گر گئی سناں

    ابرو ہلے ترے کہ ادھر کٹ گیا ہلال

    آیا ہے یاد قیس بہت اب کہ ہوں بتنگ

    اس کے بھلاوے مجھ کو نہیں چھوڑتے غزال

    خوش وقت ٹک تو ہوں پہ کہیں کا نہیں ہوں پھر

    آزردہ ہوئے مجھ سے اگر خاطر ملال

    رنگ اڑ گیا تبھی کہ ہوا تجھ سے چہرہ گل

    رکھے ہے اب نسیم کی سیلی سے منھ کو لال

    دوزخ ہے میرے شرم گنہ کے عرق میں غرق

    لیکن نہیں ہنوز مجھے ٹک بھی انفعال

    خوش قامتی کو آہ کے کب پہنچتا ہے سرو

    ہے یہ تو باغ رنگ شکستہ کا نونہال

    حیرت بساہی جان کو اپنی تمام عمر

    ٹک چشم آئینہ نے ترا دیکھ کر جمال

    یک روز بے نقاب ہوا تھا تو صبح کو

    اب تک ہے آفتاب جہاں تاب پر زوال

    تھی سیر تیرے کوچے میں عشاق کی معاش

    کتنے شکستہ دل تھے بہت تھے خراب حال

    جتنے غرض تھے سب کو یقیں تھا کہ مرچکے

    کوئی نہ تھا کہ جس کو ہو جینے کا احتمال

    کب تک صفت بتوں کی خدا سے تو خوف کر

    اے طبع رہ نہ اتنی بھی پابند خط و خال

    پڑھ منقبت یہ شاہ کی جس سے نجات ہو

    وہ شاہ جس کے ایک گدا کو ہے یہ کمال

    بخشش سے جس کی حرف طلب محو ہوگیا

    کم اس کے وقت میں ہے بہت نوبت سوال

    ہے معن اس کے مطبخ عالی کا کاسہ لیس

    دستارخواں کا اس کے ہے حاتم اک آشمال

    آوے اگر عطا و کرم پر وہ ایک دم

    خسرو کے ہفت گنج تو پھر کیا ہیں چیز مال

    کہتا ہوں اب میں مطلع ثانی کہ ہوں بتنگ

    وسعت رکھے ہے بس کہ یہ میدان قیل و قال

    مطلع ثانی

    اے نائب مصاحب دادار بے ہمال

    وے مشورت شریک خداوند لایزال

    تو ہے کہ تیرے عدل کی نظم و نسق کو سن

    اٹھ جائے دفعتہ ہی مزاجوں سے اختلال

    چاہے خدانخواستہ اس کا اگر تو رغم

    تو منحرف مقام سے ہو خط اعتدال

    شاہا ترا غلام ہو ایک اور اک طرف

    سنگیں ہو فوج دشمن اگر کوہ کی مثال

    تیر و کماں کو ہاتھ میں لے جب ہو سامنے

    ہے اس کو اپنے زور شجاعت سے یہ کمال

    جس دم کہ زور بازو سے آکر لگاوے تیر

    پھوٹیں دوسار ہوویں اگر آہنیں جبال

    چٹکی سے اس کی ہو کے جدا تیر پر لگائے

    جو اس کے سامنے ہو اسے اڑ کے لاگے بھال

    اٹکل سے جس کے سینے میں مارے ہو تیرتخش

    منھ دیکھو مدعی جو رکھے اپنے تیں سنبھال

    پشت عدو کی اور ہو پیکان یوں نمود

    جیسے کہ سانپ بیٹھے ہے بانبی سے سر نکال

    بالفرض اس پہ چوٹ کرے آکے مدعی

    خالی دے اس کے وار کو دیوے زمیں پہ ڈال

    اس جھوک ہی میں ہاتھ مع تیغ ٹوٹ جائے

    گردن کٹادے مفت گرے بس کہ ہو نڈھال

    سنتے تھے وہ مثل سو یہیں ہوتی ہے درست

    دست شکستہ اپنی ہی گردن کا ہے وبال

    جو کوہ آہنیں ہوں ترے مدعی شہا

    تنہا ترا غلام لے تلوار اور ڈھال

    دو ہاتھ ایسے گڑ کے کرے سب کو دے اکھاڑ

    مارے زمیں پہ جس کو پکڑ کر کمر دوال

    ٹھہرے ورے پرے تو نہایت غریب ہے

    تحت الثریٰ سے گر نہ پرے جائے بدسگال

    یوں دیکھ ایک دو کو کنارہ کرے شتاب

    میدان کارزار سے رستم بہ رنگ زال

    شیر فلک کو راہ بھلا دیوے وہ دھمک

    اس زلزلے میں گاو زمیں سیکھ جائے چال

    من بعد اور باقی رہیں جتنے کشتنی

    کر جمع ان کو زور شجاعت سے پیل پال

    تلوار لے پھرے وہ تو پھر جائے روزگار

    نعرہ کرے تو تن سے کرے روح انتقال

    اہل سلاح ترس سے گر گر پڑیں بہت

    جتنوں کے ہو گلے میں زرہ ان کا ہو یہ حال

    نعرے سے اس کے لیویں بہت یوں رہ گریز

    بھاگے ہیں جیسے شیر کی آوازسے شغال

    حصہ رسد کوئی ہو وہ رکھ جائے ایک تیغ

    گذرے نہ ایک دم بھی کہ قضیہ ہے انفصال

    زخم اس کے ہاتھ کا جو لگے بہ نہ ہو کبھی

    مٹ جائے کائنات مگر تب ہو اندمال

    تر ہوگئی ہے بس کہ لہو میں گل زمیں

    گر خشک ہووے خاک کہیں بعد ماہ و سال

    ہو پھر گذار باد صبا سے یہ واں کا رنگ

    اڑتا ہے جیسے ہولی کے ایام میں گلال

    میلان طبع مطلع ثالث کی اور ہے

    تا خیر پر قصیدۂ غرا کا ہو مآل

    مطلع ثالث

    لائق تری صفت کے صفت میری ہے محال

    آشفتہ طبع شاعر خستہ کی کیا مجال

    تو وہ در مدینۂ علم علیم ہے

    جس شخص کو نہ آوے الف بے تے دال ذال

    آوے تری جناب مقدس میں ایک دم

    کرتے ہیں واں تو وقف سبھی طرز کے مقال

    عالم ہو اس قدر کہ بیاں کیا کرے کوئی

    پھر بحث اس سے عقل فلاطون پر ہے دال

    لیتے ہیں تیرے در سے گدا پوست تخت فقر

    پاتے ہیں تیرے در سے شہا مکنت و جلال

    جب تک جیوں میں دل میں مرے آرزو ہے یہ

    ہوں سر سے تیرے زائر درگہ کا پائمال

    پھر بعد مرگ حوض پہ کوثر کے یا علیؓ

    جاگہ مری ہو حشر کی تیری صف نعال

    جب ہوں میں گرم راہ ترے سائے میں شہا

    ہوجائے سرد آتش دوزخ کی اشتعال

    جب تک جیے گا محو ثنا ہی رہے گا میرؔ

    ہے تیری منقبت سے نپٹ اس کو اشتغال

    ہوئے حرام تیرے محبوں کو درد و غم

    شمشیر دوستاں پہ ہو خون عدو حلال

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-miir-Vol 2

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY