گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ

مرزا غالب

گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    دلچسپ معلومات

    ۱۸۶۳ء

    گنی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہ

    ابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ

    گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار

    ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ

    یقین جان برس گانٹھ کا جو تاگا ہے

    یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ

    گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے

    کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ

    دکھا کے رشتہ کسی جوتشی سے پوچھا تھا

    کہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ

    کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیں

    جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ

    خود آسماں ہے مہا راؤ راجہ پر صدقے

    کرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ

    وہ راؤ راجہ بہادر کہ حکم سے جن کے

    رواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ

    انھیں کی سال گرہ کے لیے سال بسال

    کہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ

    انھیں کی سالگرہ کے لیے بناتا ہے

    ہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ

    انھیں کی سالگرہ کی یہ شادمانی ہے

    کہ ہو گئے ہیں گہر ہاے شاہوار گرہ

    انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیر

    کہ بن گئے ہیں ثمر ہاے شاخسار گرہ

    سن اے ندیم برس گانٹھ کے یہ تاگے نے

    پئے دعاے بقاے جناب فیض مآب

    لگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ

    ہزار دانے کی تسبیح چاہتا ہے بنے

    بلا مبالغہ درکار ہے ہزار گرہ

    عطا کیا ہے خدا نے وہ جاذبہ اس کو

    کہ چھوڑتا ہی نہیں رشتہ زینہار گرہ

    کشادہ رخ نہ پھرے کیوں کہ اس زمانے میں

    بچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ

    متاع عیش کا ہے قافلہ چلا آتا

    کہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ

    خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن

    کڑوڑوں ڈھونڈھ کے لاتا یہ خاکسار گرہ

    کہاں مجال سخن سانس لے نہیں سکتا

    پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ

    گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ بات

    زباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ

    کھلے یہ گانٹھ تو البتہ دم نکل جاوے

    بری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ

    ادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک

    کبھی کسی سے کھلے گی نہ زینہار گرہ

    دعا یہ ہے کہ مخالف کے دل میں از رہ بغض

    پڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ

    دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے

    خدا کرے کہ کرے اس طرح ابھار گرہ

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 480)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے