درمدح شاہ

مرزا غالب

درمدح شاہ

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    دلچسپ معلومات

    ۱۸۵۳ء

    اے شاہ جہانگیر جہاں بخش جہاں دار

    ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت

    جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو

    تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت

    ممکن ہے کرے خضر سکندر سے ترا ذکر

    گر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت

    آصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھا

    ہے فخر سلیماں جو کرے تیری وزارت

    ہے نقش مریدی ترا فرمان الہی

    ہے داغ غلامی ترا توقیع امارت

    تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں

    تو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت

    ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی

    باقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت

    ہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں توغل

    ہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت

    کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر

    قاصر ہے ستایش میں تری میری عبارت

    نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں

    نظارگی صنعت حق اہل بصارت

    تجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارک

    غالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 432)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے