مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک

مرزا غالب

مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک

مرزا غالب

MORE BY مرزا غالب

    INTERESTING FACT

    ۱۸۶۵ء

    مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک

    رہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس

    کہاں ہے ساقی مہوش کہاں ہے ابر مطیر

    بیار لامئے گلنار گوں ببار برس

    خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی

    در حضور پر اے ابر بار بار برس

    ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے

    امیر کلب علی خاں جییں ہزار برس

    فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیں

    کئی ہزار برس بلکہ بے شمار برس

    جناب قبلۂ حاجات اس بلا کش نے

    بڑے عذاب سے کاٹے ہیں پانچ چار برس

    شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات

    خدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس

    مآخذ:

    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 485)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY