خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے

مرزا غالب

خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    INTERESTING FACT

    ۱۸۶۵ء تا ۱۸۶۷ء

    خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے

    پییں بادۂ ناب اور آم کھائیں

    سر آغاز موسم میں اندھے ہیں ہم

    کہ دلی کو چھوڑیں لوہارو کو جائیں

    سو اناج کے جو ہے مقلوب جاں

    نہ واں آم پائیں نہ انگور پائیں

    ہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاں

    ابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں

    وہ کھٹے کہاں پائیں املی کے پھول

    وہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں

    فقط گوشت سو بھیڑ کا ریشے دار

    کہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اٹھائیں

    مآخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib (Pg. 487)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY