آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

ثبین سیف

آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

ثبین سیف

MORE BY ثبین سیف

    آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

    میرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیں

    پاس آ کر بھی اگر پاس نہ آئے کوئی

    ہم شب وصل کی تنہائی میں مر جاتے ہیں

    کیا عجب دور پر آشوب ہے جس میں اے دوست

    لوگ دستار بچاتے ہیں تو سر جاتے ہیں

    جب پسینے کا خریدار نہ ہو تب مزدور

    شام کو نظریں جھکائے ہوئے گھر جاتے ہیں

    زخمی لفظوں پہ بھی ہنس ہنس کے اگر داد ملے

    ہم سے شاعر تو اسی وقت ہی مر جاتے ہیں

    اپنے محبوب سے ملنے کے لئے روز سبینؔ

    تم کو معلوم ہے ہم چاند نگر جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites