اے غزل تیری نظر جب سے اتاری ہم نے

معید رہبر

اے غزل تیری نظر جب سے اتاری ہم نے

معید رہبر

MORE BY معید رہبر

    اے غزل تیری نظر جب سے اتاری ہم نے

    رکھ دیا نام ترا راجکماری ہم نے

    اس لیے غم کو بنا رکھا ہے اپنا ساتھی

    تجھ کو دے دی ہے خوشی ساری کی ساری ہم نے

    دل کے جذبات زمانے کو بتانے کے لیے

    شعر گوئی کا سفر رکھا ہے جاری ہم نے

    درد فرقت میں نہ سو پاؤ گے اب چین سے تم

    نیند آنکھوں سے چرا لی ہے تمہاری ہم نے

    جو کہا تجھ سے اکیلے میں کہا اے ظالم

    آبرو کب تری محفل میں اتاری ہم نے

    نقد ہے عشق کا سودا یہ ہوا جب معلوم

    اس میں رکھی ہی نہیں کوئی ادھاری ہم نے

    ہیں کہاں جن پہ ادب کا تھا کبھی دار و مدار

    اب تو اسٹیج پہ دیکھے ہیں مداری ہم نے

    یہ حقیقت ہے تمہیں کوئی نہیں پوچھے گا

    کیا کروگے جو کبھی توڑ دی یاری ہم نے

    ان سے بچھڑے ہیں تو پھر نیند نہ آئی رہبرؔ

    تارے گن گن کے ہر اک رات گزاری ہم نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites