اے عشق اس قفس سے مجھے اب رہائی دے

نجمہ شاہین کھوسہ

اے عشق اس قفس سے مجھے اب رہائی دے

نجمہ شاہین کھوسہ

MORE BY نجمہ شاہین کھوسہ

    اے عشق اس قفس سے مجھے اب رہائی دے

    دیکھوں جدھر مجھے ترا جلوہ دکھائی دے

    شہر شب فراق کے گہرے سکوت میں

    اپنی صدا مجھے بھی کبھی تو سنائی دے

    یاد حبیب مجھ کو بھی اب مجھ سے کر جدا

    مجھ کو ہجوم درد میں میری اکائی دے

    کب سے میں خامشی کے نگر میں مقیم ہوں

    لیکن یہ کون ہے جو یہاں بھی سنائی دے

    ظلمت زدوں کو جادہ و منزل کی کیا خبر

    تاریک راستوں میں بھلا کیا سجھائی دے

    قطرے میں موجزن ہے سمندر ہی ہر جگہ

    اب وہ مجھے فراز افق تک رسائی دے

    مقتل میں کیسے چھوڑ کے راہیں بدل گیا

    یا رب کسی صنم کو نہ ایسی خدائی دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites