ایسے جذبات میں لہجے کو نہ پتھر کیجے

معید رہبر

ایسے جذبات میں لہجے کو نہ پتھر کیجے

معید رہبر

MORE BY معید رہبر

    ایسے جذبات میں لہجے کو نہ پتھر کیجے

    گفتگو مجھ سے ذرا آپ سنبھل کر کیجے

    یہ نہ ہو آپ کی تحریر ہی باغی ہو جائے

    ظلم اتنا بھی نہ قرطاس و قلم پر کیجے

    مجھ سے رنجش ہے تو میدان میں آ جائیے آپ

    میری تصویر کے ٹکڑے نہ بہتر کیجے

    میرا دعویٰ ہے کہ حالات بدل جائیں گے

    سامنا آپ جو حالات کا ڈٹ کر کیجے

    چاہتے آپ ہیں جو ذہن کشادہ رکھنا

    بغض و نفرت کے خیالات کو باہر کیجے

    دوسروں پر تو کرم آپ کا رہتا ہے مگر

    اک نظر میری بھی جانب مرے دلبر کیجے

    بات بنتی ہے محبت سے بھی اکثر رہبرؔ

    دل میں پیوست نہ الفاظ کے نشتر کیجے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites