بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہے

کیف مرادآبادی

بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہے

کیف مرادآبادی

MORE BY کیف مرادآبادی

    بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہے

    جہاں ہمارے قدم ہیں وہیں زمانہ ہے

    یہ حسن و عشق کی تفریق اک بہانہ ہے

    کہیں نظر کو کہیں دل کو آزمانا ہے

    اب اس جنون طلب کا کوئی ٹھکانہ ہے

    کہ اپنے آپ کو کھو کر بھی ان کو پانا ہے

    بس ایک عشق ہی ایسا شراب خانہ ہے

    جہاں سرور کا مفہوم ہوش آنا ہے

    الٰہی تمکنت حسن و ناز حسن کی خیر

    کچھ آج عشق کا انداز والہانہ ہے

    میں ہر گناہ کی حقیقت بتا تو دوں سر حشر

    مگر انہیں جو ہر الزام سے بچانا ہے

    ذرا جنون تمنا سے دل گزر جائے

    پھر اس کے بعد کوئی دام ہے نہ دانہ ہے

    میں جانتا ہوں جو ہے فرق ذات و پرتو ذات

    مری نگاہ پس پردۂ زمانہ ہے

    کسے نصیب ہو سجدہ یہ اور بات ہے کیفؔ

    ہر اک جبیں کے قریب ان کا آستانہ ہے

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites