بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے

اکرم جاذب

بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے

اکرم جاذب

MORE BY اکرم جاذب

    بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے

    اک بے زمین ہاری ہوں صحرا نکال کے

    ڈھونڈا بہت مگر کوئی رستہ نہیں ملا

    اس زندگی سے تیرا حوالہ نکال کے

    الماری سے ملے مجھے پہلے پہل کے خط

    بیٹھا ہوا ہوں آپ کا وعدہ نکال کے

    ویرانیوں پہ آنکھ چھما چھم برس پڑی

    لایا ہوں میں تو دشت سے دریا نکال کے

    آسانیاں ہی سوچتے رہتے ہیں یار لوگ

    عقبیٰ نکال کر کبھی دنیا نکال کے

    ہم رفتگاں سے ہٹ کے بھی دیکھیں تو شعر میں

    موضوع کم ہی بچتے ہیں نوحہ نکال کے

    ملنا کہاں تھا سہل در آگہی مجھے

    آیا ہوں میں پہاڑ سے رستہ نکال کے

    واعظ نہال آج خوشی سے ہے کس قدر

    اک تازہ اختلاف کا نکتہ نکال کے

    منعم کو اس نوالے کی لذت کا کیا پتا

    مزدور جو کمائے پسینہ نکال کے

    حالات کیا غریب کے بدلے کہ ہر کوئی

    لے آیا ہے قریب کا رشتہ نکال کے

    جاذبؔ کہاں خبر تھی کہ ہے باز تاک میں

    ہم شاد تھے قفس سے پرندہ نکال کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites