بس دیکھتے ہی دیکھتے صدیاں گزر گئیں

پرویز رحمانی

بس دیکھتے ہی دیکھتے صدیاں گزر گئیں

پرویز رحمانی

MORE BY پرویز رحمانی

    بس دیکھتے ہی دیکھتے صدیاں گزر گئیں

    آبادیاں پہاڑوں سے نیچے اتر گئیں

    سوچے ہوئے دنوں کے بدن دار آ بسے

    پھر یوں ہوا کہ راتیں مرادوں سے بھر گئیں

    باغیچۂ جہان مکانوں سے بھر گیا

    پھر اور دیس تتلیاں پرواز کر گئیں

    ہم زندگی سمیٹتے کس طرح شہر میں

    وہ انتشار تھا کہ نگاہیں بکھر گئیں

    آئینے جب یقین کے بے آب ہو گئے

    آنکھوں سے انتظار کی پرتیں اتر گئیں

    سب روشنی کی بھول بھلیوں میں کھو گئے

    جتنی برائیاں تھیں اندھیروں کے سر گئیں

    ہم رہ گئے فقیر سے تعبیر پوچھتے

    فصلوں کے ساتھ ٹڈیاں سپنے بھی چر گئیں

    اجسام پھر اتر نہ سکے آسمان سے

    پرچھائیاں زمین پہ بے موت مر گئیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites