بوالہوس کم فہم ہے وہ آدمی نادان ہے

فضل حسین صابر

بوالہوس کم فہم ہے وہ آدمی نادان ہے

فضل حسین صابر

MORE BY فضل حسین صابر

    بوالہوس کم فہم ہے وہ آدمی نادان ہے

    جو یہ سمجھا عشق کچھ مشکل نہیں آسان ہے

    کب میں کہتا ہوں کہ میری جان میری جان ہے

    آپ کی ہے بندہ پرور آپ پر قربان ہے

    بے خودی کے بعد کیا گزری نہیں کچھ بھی خبر

    جلوہ گاہ ناز تک پہنچا بس اتنا دھیان ہے

    کس کے جلوے سے ہے بے خود انجمن کی انجمن

    ہر بشر تصویر ہے ہر آئنہ حیران ہے

    مصحف رخسار جاناں پر نمود خط نہیں

    دیکھنے والو یہ ہے تفسیر وہ قرآن ہے

    اس جگہ پہنچا جہاں قدسی بھی جا سکتے نہیں

    در حقیقت آدمی کی شان بھی کیا شان ہے

    اس کے بندے بندگی کرتے ہیں لیکن اے بتو

    تم خدائی کر رہے ہو یہ خدا کی شان ہے

    کیا چھپوگے تم وہاں وہ کچھ تمہارا گھر نہیں

    حشر کا میدان آخر حشر کا میدان ہے

    آرزو مٹنے کی تھی راہ طلب میں مٹ چکے

    اور اب اے حضرت دل کہیے کچھ ارمان ہے

    آدمی تو سب ہی کہلاتے ہیں لیکن خلق میں

    اس کا رتبہ اور ہے جو آدمی انسان ہے

    صابرؔ عاصی کے عصیاں کیوں نہ بخشے گا خدا

    وہ بڑا غفار ہے ستار ہے رحمان ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites