چلتے چلتے تھکتے چلے جاتے ہیں ہم
چلتے چلتے تھکتے چلے جاتے ہیں ہم
لیکن جیسے تیسے چلے جاتے ہیں ہم
طے کرتے ہیں اس کے پاس نہیں جانا ہے
اور پھر پھرتے پھرتے چلے جاتے ہیں ہم
سانسوں کے آنے جانے کا کیا قصہ
جینا ہے سو جیے چلے جاتے ہیں ہم
آپ کا چاک ہے آپ کی مٹی آپ بتائیں
بنے ہیں کچھ یا بگڑے چلے جاتے ہیں ہم
کام کوئی ہو پاتا ہے یا نہیں ہو پاتا
اپنی طرف سے کیے چلے جاتے ہیں ہم
اب وہ ہاتھ کہاں ہیں کہاں گئے وہ ہاتھ
کسے پکاریں ڈھے چلے جاتے ہیں ہم
کون ہماری سنتا ہے کس نے سننی ہے
ہم ہیں کہ لیکن کہے چلے جاتے ہیں ہم
- کتاب : محبت جب نہیں ہوگی (Pg. 128)
- Author : آفتاب حسین
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2022)
- اشاعت : 2nd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.