ایک برسات میں میدان سمندر ہوگا

دنیش کمار درونا

ایک برسات میں میدان سمندر ہوگا

دنیش کمار درونا

MORE BY دنیش کمار درونا

    ایک برسات میں میدان سمندر ہوگا

    درد سوچا نہیں تھا سوچ سے بڑھ کر ہوگا

    وہ جو آئے گا مرے پاس مسیحا بن کر

    اس کے ہاتھوں میں مرے نام کا خنجر ہوگا

    تیز چلنے سے ہے مقصود روانی سن لو

    تھک کے جو بیٹھ گیا میل کا پتھر ہوگا

    لاکھ لیتے رہو ہاتھوں کی تلاشی میرے

    جو بھی اندر ہے مرے ذہن کے اندر ہوگا

    سرخ آنکھوں کا کہاں رنگ ہوا کرتا ہے

    خون میں لپٹے ہوئے خواب کا منظر ہوگا

    جو گرا دے گا مجھے تاش کے پتوں کی طرح

    میری تعمیر میں تجھ سا کوئی پتھر ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites