اک دوجے کے باسی ان کو اور بسیرا کیا معلوم

پرویز رحمانی

اک دوجے کے باسی ان کو اور بسیرا کیا معلوم

پرویز رحمانی

MORE BY پرویز رحمانی

    اک دوجے کے باسی ان کو اور بسیرا کیا معلوم

    اپنے پن کے باشندوں کو میرا تیرا کیا معلوم

    سورج بولے تو سو جائیں سورج بولے تو جاگیں

    کیا جانیں یہ دیا جلانا ان کو اندھیرا کیا معلوم

    خواب کا جھوٹ جیون سچ میں تل تل مرنا جن کا بھاگ

    یہ راتوں کے قیدی ان کو سانجھ سویرا کیا معلوم

    بستی سے باہر سانپوں نے بھی تو کچھ پھونکا ہوگا

    آدھی راہ سے لوٹا ہو مہمان سپیرا کیا معلوم

    باندھی تھیں آشائیں کیا کیا ہم نے اب کے موسم سے

    رحمانیؔ اب کون سی رت میں پھولے بہیرا کیا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites