اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے

پیرزادہ قاسم

اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے

پیرزادہ قاسم

MORE BY پیرزادہ قاسم

    اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے

    یعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائے

    دست نادیدہ کی تحقیق ضروری ہے مگر

    پہلے جو آگ لگی ہے وہ بجھا دی جائے

    اس کی خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیں

    بے حسی وقت کی آواز بنا دی جائے

    صرف سورج کا نکلنا ہے اگر صبح تو پھر

    ایک شب اور مری شب سے ملا دی جائے

    اور اک تازہ ستم اس نے کیا ہے ایجاد

    اس کو اس بار ذرا کھل کے دعا دی جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites