اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں

اقصیٰ فیض

اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں

اقصیٰ فیض

MORE BY اقصیٰ فیض

    اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں

    نگاہوں کے سمندر میں لہو رنگ اشک ٹھہرے ہیں

    کہیں تنہائیوں نے وحشتوں سے دوستی کر لی

    کہیں دل پر گزشتہ موسموں کے اب بھی پہرے ہیں

    کہیں برکھا کی رت نے دل کی دنیا خوں میں نہلا دی

    کہیں ویران راہوں پر قدم صدیوں سے ٹھہرے ہیں

    سجایا ہے کہیں آنکھوں نے خود کو ماہ و انجم سے

    اسی امید پر کہ آنے والے دن سنہرے ہیں

    بھروسا کر تو لوں لیکن بتاؤ کس پہ کرنا ہے

    کہ ہر چہرے کے پیچھے ہی نہ جانے کتنے چہرے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites