اٹھا صراحی یہ شیشہ وہ جام لے ساقی

کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

اٹھا صراحی یہ شیشہ وہ جام لے ساقی

کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

MORE BY کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

    اٹھا صراحی یہ شیشہ وہ جام لے ساقی

    پھر اس کے بعد خدا کا بھی نام لے ساقی

    پھر اس کے بعد ہمیں تشنگی رہے نہ رہے

    کچھ اور دیر مروت سے کام لے ساقی

    ترے حضور میں ہوش و خرد سے کیا حاصل

    کبھی تو ہوش و خرد سے بھی کام لے ساقی

    پھر اس کے بعد جو ہوگا وہ دیکھا جائے گا

    ابھی تو پینے پلانے سے کام لے ساقی

    ہمیں ہے کیف و نشاط و سرور سے مطلب

    نہیں ہے مے تو نگاہوں سے کام لے ساقی

    یہ اور کچھ بھی ہوں کافر نہیں ہیں تیرے رند

    تو بعد جام خدا کا بھی نام لے ساقی

    کہو یہ خضر سے بھٹکے نہ یوں زمانے میں

    یہاں سے آب بقائے دوام لے ساقی

    سحر کا کام نہیں میکدے کی دنیا میں

    سحر کا نام نہ لے لطف شام لے ساقی

    کبھی تھا زینت محفل وہ رند دریا نوش

    بہ وقت دور سحرؔ کا بھی نام لے ساقی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites