بھائی چارہ

شوکت پردیسی

بھائی چارہ

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    INTERESTING FACT

    یہ نظم پیام تعلیم میں ماہ اگست 1977 میں شائع ہوئی۔

    جنگ چھڑی ہو سرحد پر یا کہیں لگی ہو آگ

    پورا ہو ارمان کسی کا یا سو جائیں بھاگ

    میری بین جدا ہے سب سے میری جدا ہے راگ

    میری دنیا کھیل تماشا میں ہوں منا پیارا

    سب کے دل کی راحت ہوں میں سب کی آنکھ کا تارا

    میں روؤں تو مجھ کو گھر کے سارے لوگ منائیں

    میں سوؤں تو میرے سپنوں میں پریاں آ جائیں

    میں جاگوں تو مجھ کو امی اپنے گلے لگائیں

    میں گاؤں تو گائے جیسے یہ عالم ہی سارا

    سب کے دل کی راحت ہوں میں سب کی آنکھ کا تارا

    دنیا کے سارے بچوں کا یکساں ہے افسانہ

    میرے ہی جیسا ہے سب کی فطرت کا پیمانہ

    ملتی جلتی سی عادت ہے رونا ہو یا گانا

    میری منزل پیار محبت میرا سپنا نیارا

    سب کے دل کی راحت ہوں میں سب کی آنکھ کا تارا

    میری دنیا جنگ نہیں ہے کیسی ہاتھا پائی

    ہو کوئی ہندو یا مسلم سکھ ہو یا عیسائی

    میری نظر میں سب یکساں ہیں سب ہیں میرے بھائی

    میرے جیسے بچوں کا مذہب ہے بھائی چارہ

    سب کے دل کی راحت ہوں میں سب کی آنکھ کا تارا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY