چیک

نوید ملک

چیک

نوید ملک

MORE BY نوید ملک

    آج تنخواہ کا چیک ملا

    لمحہ بھر میرے چہرے پہ خوشیوں کی کرنیں بکھرنے لگیں

    فون کی گھنٹیوں نے اندھیرے میں بدلا سماں

    میں اداسی کے صحرا میں پل بھر کو خیمے میں تنہا رہا

    یک دم اپنے پلٹنے پہ امید نے

    اک سہارا دیا ٹھیک ہے

    ٹھیک ہے قرض دینا ہے جن جن کا دے دوں گا میں

    شکر ہے

    مجھ سے شکوہ نہ کوئی کرے گا یہاں

    اے مری زندگی

    قرض مجھ پر ہیں تیرے بہت

    کون سا چیک ملے گا مجھے

    میں اتاروں گا قرضے سبھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY