ایک رقاصہ کو دیکھ کر

جے کرشن چودھری حبیب

ایک رقاصہ کو دیکھ کر

جے کرشن چودھری حبیب

MORE BY جے کرشن چودھری حبیب

    دل کے بجھے چراغ جلاتی چلی گئی

    قدموں سے سوئے فتنے جگاتی چلی گئی

    شعلہ تھا وہ لپکتا ہوا یا کہ برق تھی

    رگ رگ میں آگ سی وہ لگاتی چلی گئی

    یا جسم کو وہ خم کہ کماں کام دیو کی

    کس کس ادا سے تیر چلاتی چلی گئی

    پھولوں کی ڈالیوں کی لچک بازوؤں میں تھی

    بل نازکی کے بوجھ سے کھاتی چلی گئی

    نظم حسیں کہیں کہ اسے ہم غزل کا شعر

    اہل نظر کو وجد میں لاتی چلی گئی

    ایک جنبش نظر سے لچکتی کمر سے وہ

    کیا کیا فسانے دل کے سناتی چلی گئی

    رخ پر برہ کا رنگ ہے یا کہ ملن کی آس

    دنیائے سوز و ساز دکھاتی چلی گئی

    خوابوں کی بستیوں میں اڑائے لیے پھری

    یادوں کا ایک شہر بساتی چلی گئی

    اس دور مے کشی میں کسے ہوش تھا حبیبؔ

    کب آئی اور کب وہ پلاتی چلی گئی

    مآخذ:

    • کتاب : نغمۂ زندگی (Pg. 98)
    • Author : جے کرشن چودھری حبیب
    • مطبع : جے کرشن چودھری حبیب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY