غم

راحیل فاروق

غم

راحیل فاروق

MORE BY راحیل فاروق

    رات ویران ہے بہت ویران

    آسماں لاش ہے جلی ہوئی لاش

    جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح

    ایک انبوہ ہے ستاروں کا

    رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں

    خامشی سے گزرتے جاتے ہیں

    ہائے یہ رات ہائے ہائے یہ رات

    کب بسر ہوگی کیسے گزرے گی

    کوئی دیکھے مری نظر سے اسے

    کوئی چارہ مجھے بتائے مرا

    کچھ علاج اس نظر کا کوئی دوا

    یا پھر آنکھیں ہی نوچ لے میری

    ہے مسیحا کوئی طبیب کوئی

    کون میرے علاوہ دیکھے گا

    جو مری آنکھ پر بھی ہے دشوار

    غم کی عظمت کو کون پہچانے

    چھوڑ کر زندگی کا کاروبار

    کسے فرصت کہ آنکھ اٹھائے ذرا

    شب کی ویرانیوں کا نوحہ لکھے

    آسماں کا جنازہ پڑھ ڈالے

    اور ستاروں کا راستہ روکے

    کسے فرصت ہے مجھ سے بات کرے

    میری آنکھوں میں جھانک کر دم بھر

    مجھ سے پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا

    بھری دنیا میں کون دیدہ ور

    کون رکھتا ہے میری جیسی نظر

    کون پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا

    غم کی عظمت کو کون پہچانا

    کسے فرصت کہ مجھ کو پہچانے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites