کون زنجیر توڑ سکتا ہے

راحیل فاروق

کون زنجیر توڑ سکتا ہے

راحیل فاروق

MORE BY راحیل فاروق

    کون زنجیر توڑ سکتا ہے

    کس میں ہمت ہے تم سے لڑنے کی

    کس میں جرأت ہے سر اٹھانے کی

    کون باغی تمہاری ذات سے ہو

    کس ستم گر کو جان پیاری نہیں

    جان ہے تو جہان ہے پیارے

    لوگ زندہ رہیں گے لالچ میں

    کہ کسی روز وقت آئے گا

    ایک لشکر مسرتوں کا لیے

    اور تہ تیغ کر کے رکھ دے گا

    غم کی فوجوں کو قہر کے دل کو

    اور یہ بے نشان قیدی بھی

    اسی جھولے میں چھوٹ جائیں گے

    سلسلے دکھ کے ٹوٹ جائیں گے

    تم مگر فکر مت کرو جاناں

    یہ تو لالچ ہے زندہ رہنے کا

    خواب ہے مردہ ظرف لوگوں کا

    وقت مظلوم کا نہیں ہوتا

    تم پریشان مت ہو جان جاں

    تم سے منہ کون موڑ سکتا ہے

    کون زنجیر توڑ سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites