مریخ کی سیر

نعیم الدین نعیم

مریخ کی سیر

نعیم الدین نعیم

MORE BY نعیم الدین نعیم

    اس سال چھٹیوں کا بنا یہ پروگرام

    جائیں گے دوست سیر کو مریخ کی تمام

    دنیا سے دور اپنی خلاؤں میں جائیں گے

    ہم دوسرے جہاں کی خبر لے کے آئیں گے

    اونچی بہت اڑان ہے لمبا بڑا سفر

    نکلے خلا کی سیر کو راکٹ میں بیٹھ کر

    پھر ہم نے جا کے ڈال دی مریخ پر کمند

    اقبال کے اقبال کو ہم نے کیا بلند

    لمبے سفر کے بعد جو پہنچے مریخ پر

    دیکھے قدم قدم پہ عجوبے مریخ پر

    اہل مریخ نے کہا ہمیں خوش آمدید

    سمجھو یوں ہم کو اپنی وفا سے لیا خرید

    مخلوق اک عجیب ہی دیکھی مریخ پر

    تھے بندروں سے جسم تو چیتوں سے ان کے سر

    آتے نظر نہیں تھے بظاہر تو ان کے پر

    سب اڑتے پھر رہے تھے خلا میں ادھر ادھر

    رک رک کے اڑ رہی تھیں خلاؤں میں تتلیاں

    بن آب تیرتی تھیں فضاؤں میں مچھلیاں

    رنگین خوش نما تھے ستارے مریخ پر

    نظروں کو لوٹتے تھے نظارے مریخ پر

    سر سبز رنگ چاند تھا سر سبز رات تھی

    ماحول پر سکوں تھا غموں سے نجات تھی

    تھیں گہری کھائیاں کہیں اونچے پہاڑ تھے

    چاندی کے سبزہ زار تھے سونے کے جھاڑ تھے

    تھیں رونقیں کراچی کی موسم مری کا تھا

    دل میں خیال بھی نہ کوئی بے گھری کا تھا

    محسوس کم ہی ہوتی وہاں پر تھی بھوک پیاس

    کھانے کو پھل لذیذ تھے چرنے کو میٹھی گھاس

    لٹکی ہوئی شجر پہ تھیں پانی کی بوتلیں

    حیران کن خلا میں معلق تھیں ہوٹلیں

    موقع جو ہاتھ آیا تھا ہم نے نہ دیر کی

    گھومے پھرے مریخ پہ جی بھر کے سیر کی

    دو ماہ کی چھٹیاں گئیں دو دن میں ہی گزر

    بدھو تمام لوٹ کے پھر آئے اپنے گھر

    مریخ کا سفر تو بڑا لا جواب تھا

    لگتا ہے جیسے دیکھا کوئی ہم نے خواب تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites