نوحہ

جے کرشن چودھری حبیب

نوحہ

جے کرشن چودھری حبیب

MORE BY جے کرشن چودھری حبیب

    زندگی بہتی رہی آب رواں کی مانند

    کبھی ہلکی سی کبھی خواب گراں کی مانند

    وقت کی لہروں پے معصوم سا چہرہ ابھرا

    اور پھر ہو گیا گم وہم و گماں کی مانند

    دل ربا چہرے پہ کیوں چھایا قضا کا سایا

    کیوں بہاروں کا ہوا رنگ خزاں کے مانند

    ہو گئی کیوں وہ چہکتی ہوئی بلبل خاموش

    کیوں گرا پھول جو گلشن میں تھا جاں کی مانند

    رند جھوم اٹھتے تھے مستان ادا پر جس کی

    اب یہاں کون ہے اس پیر مغاں کی مانند

    خاک اڑتی ہے جہاں قہقہے ہوتے تھے بلند

    نغمۂ بزم ہے اب آہ و فغاں کی مانند

    گرمیٔ دل تھی وہی اس کی وہی ذوق طلب

    ڈھلتے سایوں میں وہ تھا مرد جواں کی مانند

    عمر بھر یاد چتر ہم کو رلائے گی حبیبؔ

    غم ستائے گی سدا درد نہاں کی مانند

    مآخذ:

    • کتاب : نغمۂ زندگی (Pg. 97)
    • Author : جے کرشن چودھری حبیب
    • مطبع : جے کرشن چودھری حبیب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY