رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

عرش صدیقی

رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

عرش صدیقی

MORE BY عرش صدیقی

    میں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

    سانس جب تک ساتھ ہے میں خواہشوں کا جگمگاتا ہاتھ تھامے

    تیری ہم راہی میں ہوں

    خواہشیں ایک شامیانہ ہیں لرزتی آخری ہچکی کے اور کچھ مانگتی پہلی صدا کے درمیاں

    جس کے سائے میں گزرتے وقت کے وقت کے چلتے ہوئے لمحوں کو ملتا ہے سکوں

    ہے انہی جلتے ہوئے لمحوں کی جگ مگ میں مری پہچان گم

    لمحے چلتے ہیں گزرتا وقت اندھا ہے مگر

    اور گزرتے وقت کی پہچان دیتا ہے تو مستقبل کا وہ نقش گریزاں ہفت رنگ

    جو افق تک جائے مے راستے سے اب بھی برسوں دور ہے

    میں سفر میں ہوں لئے کاندھوں پہ اپنی رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

    ڈھونڈھتا ہوں آنے والے وقت میں اس ایک لمحے کو جو سچ کہنے کی جرأت دے مجھے

    تاکہ مر جانے سے پہلے ایک بار

    میں بھی اشیاء کو پکاروں ان کے اپنے نام سے

    اس لئے کہ ہر کتاب آسمانی میں لکھا ہے سچ کہو

    اور یہی خواہش ہے جو اب تک سراب خواب ہے

    لیکن ایسا خواب دیکھا کس نے جو تعبیر کی حد میں نہ ہو

    میں کہ اب بھی خواہشوں کا ہاتھ تھامے

    تیری ہم راہی میں ہوں

    میں نے اب تک کیسے کیسے نام دے کر تجھ کو دیکھا ہے خود اپنے رنگ میں

    چاہتا ہوں اب کبھی تجھ کو پکاروں تیرے اپنے نام سے

    اس لئے میں ہر نئے امکاں کی سرحد تک چلوں گا تیرے ہاتھ

    راہ کی دیوار کیوں میرے لئے ہوں رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال

    اس لئے کہ سانس چلتی ہے تو ہر منزل مری بانہوں میں ہے

    اس لئے کہ خواہشیں تو وقت کی مانند ہیں بے سن و سال

    اس لئے کہ وقت کب بوڑھا ہوا بوڑھے تو ہوتے ہیں درخت

    میں کہ اب بھی خواہشوں کا ہاتھ تھامے تیری ہم راہی میں ہوں

    ہر نئے امکاں کی سرحد تک چلوں گا تیرے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY